Hazrat Abu Talib (AS)

 حضرت ابو طالب علیہ السلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا اور حضرت علی علیہ السلام کے والد تھے۔ ان کا نام عمران اور کنیت ابوطالب تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی والدہ حضرت آمنہ بنت وھب علیہا السلام اور دادا حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد آٹھ سال کی عمر سے آپ کے زیر کفالت رہے۔آپ کے والد کا نام عبدالمطلب اور والدہ کا نام فاطمہ بنت عمرو تھا۔ آپ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد عبداللہ بن عبدالمطلب کے واحد سگے بھائی تھے چونکہ دیگر کی والدہ مختلف تھیں ۔

موجودہ روضہ حضرت ابو طالب علیہ السلام

روضہ حضرت ابو طالب علیہ السلام کی پرانی تصویر

  • ایمان ابوطالب علیہ السلام پر اثباتی دلیلیں

ا۔  اسلام سے پہلے آپ دین ابراہیم علیہ السلام پر تھے چنانچہ ان کی بت پرستی کی کوئی ایک روایت بھی نہیں ملتی۔
ب۔ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نکاح پڑھایا تھا جس کا آغاز کلمہ بسم اللہ سے ہوا تھا۔ اللہ کا نام وہ لوگ استعمال کرتے تھے جو دینِ ابراہیمی پر عمل کرتے تھے۔
ج۔  ان کی زوجہ حضرت فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیھا نے اسلام قبول کیا تو ان کا نکاح فسخ نہ ہوا جبکہ اگر کسی مشرک یا کافر کی زوجہ اسلام قبول کرتی تو اس کی شادی فسخ ہو جاتی۔
د۔  آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو مسلمان ہونے پر کچھ نہ کہا حالانکہ وہ سن و سال میں چھوٹے تھے۔
ح۔ آپ کے اشعار جو سیرت ابن اسحاق، سیرت ابن ہشام، تاریخ طبری وغیرہ کے علاوہ عربی ادب میں عموماً ملتے ہیں، آپ کے ایمان پر سند ہیں۔
س۔  حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسلام کے عمومی اعلان کے بعد بھی حضرت ابو طالب علیہ السلام کے دسترخوان پر کھانا کھاتے جبکہ کسی مشرک و کافر کے ساتھ نہ کھاتے۔
ص۔  جس سال حضرت ابوطالب علیہ السلام اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کا انتقال ہوا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید دکھ ہوا اور انہوں نے اس سال کا نام عام الحزن رکھا یعنی غم کا سال
ط۔  حضرت ابوطالب علیہ السلام نے ہمیشہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی یہاں تک کہ ان کے بستر پر بدل بدل کر اپنے بیٹوں خصوصاً حضرت علی علیہ السلام کو سلاتے تاکہ قریش حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ بھتیجے کی محبت کے علاوہ اسلام سے بھی محبت کا ثبوت ہے کیونکہ بھتیجے کی محبت بیٹوں سے فوقیت نہیں رکھتی
ع۔  سیرت ابن ہشام و سیرت ابن اسحاق کے مطابق وفات کے وقت ایک صحابی نے کان لگا کر سنا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہا کہ خدا کی قسم یہ وہی کلمات کہہ رہے ہیں جو اس سے قبل آپ ان کو کہنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کلمہ پڑھنے کو کہا تھا۔